جی ہاں، اگر نماز کے دوران موبائل فون بجنا شروع ہو جائے تو ‘عملِ قلیل’ (ایک ہاتھ سے بٹن دبا کر) فون بند کر دینا چاہیے، تاکہ اپنی اور دوسروں کی نماز میں خلل واقع نہ ہو۔ اگر دونوں ہاتھ استعمال کیے تو نماز ٹوٹ جائے گی۔
مقیم (اپنے شہر میں رہنے والے) کے لیے چوبیس گھنٹے (ایک دن اور ایک رات) اور مسافر کے لیے 72 گھنٹے (تین دن اور تین راتیں) مسح کی مدت ہے، بشرطیکہ موزے پاک وضو کر کے پہنے گئے ہوں۔
سونے کا نصاب ساڑھے سات تولہ (تقریباً 87.48 گرام) اور چاندی کا نصاب ساڑھے باون تولہ (تقریباً 612.36 گرام) ہے۔ اگر کسی کے پاس اس مالیت کا نقدی یا سامانِ تجارت سال بھر رہے تو زکوٰۃ فرض ہے۔
اگر نماز میں کوئی واجب بھولے سے چھوٹ جائے یا تاخیر ہو جائے تو سجدہ سہو واجب ہوتا ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ آخری قعدہ میں التحیات پڑھ کر دائیں طرف سلام پھیریں، پھر دو سجدے کریں اور دوبارہ التحیات، درود اور دعا پڑھ کر سلام پھیریں۔
اگر مریض کھڑا ہونے یا بیٹھنے پر قادر نہ ہو، تو وہ لیٹ کر قبلہ رخ منہ کر کے اشارے سے نماز پڑھ سکتا ہے۔ اگر وہ اشارہ کرنے پر بھی قادر نہ رہے تو نماز مؤخر کر دی جائے گی۔