دارالافتاء (Darul Ifta)

مستند فتاویٰ اور روزمرہ زندگی کے شرعی مسائل کا حل

جدید عائلی و شرعی مسائل کے حل

جامعہ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے مستند فتاویٰ کی روشنی میں تیار کیا گیا ایک جامع شرعی مجموعہ۔ یہاں روزمرہ زندگی، خرید و فروخت، عبادات، عائلی زندگی اور جدید معاملات سے متعلق اہم مسائل کے شرعی احکامات کو آسان زبان میں پیش کیا گیا ہے۔

گروپ 1: ایمان و عبادات (Faith & Worship)

جی ہاں، اگر نماز کے دوران موبائل فون بجنا شروع ہو جائے تو ‘عملِ قلیل’ (ایک ہاتھ سے بٹن دبا کر) فون بند کر دینا چاہیے، تاکہ اپنی اور دوسروں کی نماز میں خلل واقع نہ ہو۔ اگر دونوں ہاتھ استعمال کیے تو نماز ٹوٹ جائے گی۔
مقیم (اپنے شہر میں رہنے والے) کے لیے چوبیس گھنٹے (ایک دن اور ایک رات) اور مسافر کے لیے 72 گھنٹے (تین دن اور تین راتیں) مسح کی مدت ہے، بشرطیکہ موزے پاک وضو کر کے پہنے گئے ہوں۔
سونے کا نصاب ساڑھے سات تولہ (تقریباً 87.48 گرام) اور چاندی کا نصاب ساڑھے باون تولہ (تقریباً 612.36 گرام) ہے۔ اگر کسی کے پاس اس مالیت کا نقدی یا سامانِ تجارت سال بھر رہے تو زکوٰۃ فرض ہے۔
اگر نماز میں کوئی واجب بھولے سے چھوٹ جائے یا تاخیر ہو جائے تو سجدہ سہو واجب ہوتا ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ آخری قعدہ میں التحیات پڑھ کر دائیں طرف سلام پھیریں، پھر دو سجدے کریں اور دوبارہ التحیات، درود اور دعا پڑھ کر سلام پھیریں۔
اگر مریض کھڑا ہونے یا بیٹھنے پر قادر نہ ہو، تو وہ لیٹ کر قبلہ رخ منہ کر کے اشارے سے نماز پڑھ سکتا ہے۔ اگر وہ اشارہ کرنے پر بھی قادر نہ رہے تو نماز مؤخر کر دی جائے گی۔

گروپ 2: معاشرت و حقوق (Social Life & Rights)

سسرال والوں کی خدمت کرنا بہو پر شرعاً کوئی قانونی فرض یا واجب نہیں ہے، تاہم اخلاقی اور حسنِ معاشرت کے طور پر ان کی خدمت کرنا سعادت مندی اور گھر کے سکون کا باعث ہے۔
جی ہاں، شوہر پر واجب ہے کہ وہ بیوی کو اس کی حیثیت کے مطابق ایک ایسا کمرہ یا گھر فراہم کرے جس میں شوہر کے خاندان کا کوئی دوسرا فرد مداخلت نہ کرے اور اس کا اپنا ذاتی ساز و سامان اور رازداری محفوظ ہو۔
جی ہاں، احسان اور نیکی ایک اختیاری امر ہے۔ کسی بھی شخص کو قانونی یا شرعی طور پر احسان کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا، جب تک کہ وہ اس کی اپنی مرضی اور رضا سے نہ ہو۔
والدین کے ساتھ قطع تعلق کرنا اور ملاقات نہ کرنا کبیرہ گناہ ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ صبر کریں، بیٹے کی ہدایت کے لیے دعا کریں اور قرآنی دعا ‘رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّیَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْیُنٍ’ کا کثرت سے ورد کریں۔
غیر مسلموں کو ان کے مذہبی تہواروں (جیسے کرسمس یا دیوالی وغیرہ) پر مبارکباد دینا یا ان کی مذہبی رسومات میں شرکت کرنا جائز نہیں ہے، البتہ ان کے ساتھ عام دنیاوی معاملات میں حسنِ سلوک اور ہمدردی جائز ہے۔

گروپ 3: تجارت و جدید مسائل (Business & Modern Issues)

جی ہاں، انٹرنیٹ پر خرید و فروخت جائز ہے بشرطیکہ وہ چیزیں حرام نہ ہوں، دھوکہ دہی نہ ہو، اور سود یا غیر شرعی شرائط شامل نہ ہوں۔
بینک سے حاصل ہونے والا سودی منافع حرام ہے، اسے اپنے استعمال میں لانا جائز نہیں۔ اس رقم کو ثواب کی نیت کے بغیر غرباء اور مساکین پر صدقہ کرنا واجب ہے۔
یوٹیوب کی مونیٹائزیشن سے حاصل ہونے والی آمدنی تبھی حلال ہوگی جب ویڈیوز کا مواد جائز ہو (اس میں موسیقی، خواتین کی تصاویر، اور فحاشی نہ ہو) اور جو اشتہارات دکھائے جائیں وہ بھی غیر اسلامی اور حرام مصنوعات کے نہ ہوں۔
مروجہ کرپٹو کرنسیوں (بٹ کوائن وغیرہ) میں سرمایہ کاری اور خرید و فروخت فی الوقت شرعاً جائز نہیں ہے کیونکہ اس کے پیچھے کوئی مادی اثاثہ (Physical Asset) نہیں ہے اور اس میں دھوکہ دہی (غرر) اور سٹہ بازی کا قوی امکان ہے۔
ایسا شخص شرعی معذور کہلاتا ہے۔ وہ ہر نماز کے وقت کے لیے نیا وضو کرے گا، اور اس وضو سے اس وقت کے فرض اور نفل پڑھ سکتا ہے۔ اس دوران قطرے نکلنے سے وضو نہیں ٹوٹے گا۔

گروپ 4: طلاق و عائلی مسائل (Divorce & Family Issues)

محض طلاق کے خیالات آنے یا دل میں سوچنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی، جب تک کہ زبان سے طلاق کے الفاظ نہ کہے جائیں یا تحریری طور پر نہ لکھا جائے۔
جی ہاں، طلاق کے معاملے میں سنجیدگی اور مذاق دونوں برابر ہیں۔ اگر شوہر نے مذاق یا غصے میں بھی طلاق کے واضح الفاظ کہے تو طلاق واقع ہو جائے گی۔
جی ہاں، اگر کسی شخص نے اپنی ساس کے ساتھ شہوت کے ساتھ مساس یا ہمبستری کی (حرمتِ مصاہرت)، تو اس کی اپنی بیوی اس پر ابدی طور پر حرام ہو جاتی ہے اور ان کا نکاح ختم ہو جاتا ہے۔
جی ہاں، جمہور صحابہ اور فقہاء بشمول آئمہ اربعہ کے نزدیک ایک ساتھ تین طلاقیں دینے سے تینوں طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں اور بیوی ابدی طور پر جدا ہو جاتی ہے، اگرچہ ایک ساتھ تین طلاقیں دینا سخت گناہ ہے۔
محض طلاق کی دھمکی دینے یا ‘میں طلاق دے دوں گا’ کہنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔ طلاق صرف موجودہ یا ماضی کے واضح الفاظ (جیسے ‘میں نے طلاق دی’) کہنے سے واقع ہوتی ہے۔

مطلوبہ سوال موجود نہیں ہے؟

اگر آپ کا مطلوبہ شرعی مسئلہ یہاں موجود نہیں ہے، تو آپ نیچے دیے گئے بٹن پر کلک کر کے مفتی صاحب سے براہ راست واٹس ایپ پر اپنا سوال پوچھ سکتے ہیں اور شرعی رہنمائی حاصل کر سکتے ہے۔